جس نے پوچھا تھا

میرا حال 
سَرِ شام
وہ تیری یاد تھی 
یا کہ میری تنہائی
لوگ ہر سِمت تھے

 اتنے کہ

جیسے میلا تھا
جس نے چپکے سے
تھاما تھا میرا ہاتھ
وہ تیری یاد تھی
یا پھر میری تنھائی

Advertisements