ایک مسیحا
عبدالستار ایدھی کے نام

ہاں اِک مسیحا تھا میرے شھر میں
جو اس شھر کی پہچان بنا


مرض لاعلاج تھا غربت لیکن
وہ اس مرض کا علاج بنا


اس کے چہرے سے عیاں تھی
ہاں اُداسی اُس کی
جو رگ رگ میں سمائی اس کے
جب وہ ہر اِک کے درد کا سامان بنا


ہر لاش لاوارث کو اس نے باکفن رکھا
کوئی وجود بے آبرو نہ ہونے پائے
ایک جھولا اپنے آنگن میں
اپنے در پہ بھی ایک پالنا رکھا


لاشیں گرتیں تھیں جب
بے نام سی گلیوں میں
جب صاحبِ اقتدار بھی
ہوتے تھے محو اٹھکیلیوں میں
وہ غمگسار بنا
سب کا اعتبار بنا


سیاہ راتوں میں
لاشوں کو اٹھانے والا
اندھیری رات میں وہ
صبح کا امکان بنا


جب گیا اس جہاں سے
تو بے حسوں کے بھی
دل کا وہ ارمان بنا

Advertisements