ایک قندیل جو قندیل نہ بن پائی کبھی
ایسی ڈوبی وہ اندھیروں میں کہ نہ جل پائی کبھی


لوگو سُولی پہ چڑھاؤ یا سنگسار کرو
وہ تو ایک خواب تھی جو شرمندۓ تعبیر نہ ہوپائی کبھی


اس کے خوابوں سے پریشاں ہے کیوں یہ جگ سارا
وہ اُس منزل کی تھی مُتلاشی جو نہ مل پائی کبھی


ہم یہ کیسے کہیں کے راستہ غلط تھا اُس کا
جہاں غلط راستوں پہ چل کے کتنوں نے عزت پائی

Advertisements