خوشی کو دکھائیں ا اور غم کو چھپائیں
دکھانے چھپانے کا ہے کھیل سارا

کبھی دل لٹائیں کبھی دل چھپائیں
کہ پانے گنوانے کا ہے کھیل سارا

کریں جو بھی چاہیں کہ دل میں جو آئے
مگر پھر بھی چاہیں کہ جگ کو ریجھائیں

ریجھانے منانے کا ہے کھیل سارا
کبھی موتیوں کی لڑی بن کے ٹوٹیں

کبھی لہر بن کے کِناروں سے سمٹیں
بکھرنے سمٹنے کا ہے کھیل سارا

Advertisements