شام ڈھلے بھی جس کُٹیا میں
اندر تک اندھیاری ہو
وہ کُٹیا ہی ہماری ہوگی


جس کو گزرے برسوں بیتے
جیتے جی بھی زندہ نہیں تھے

ان پہ اب کیا آہ وزاری ہوگی


عمر کا اِک اِک لمحہ گزرا
سوچتے تم پہ عمر گزاری
اب قصۂ پارینۂ ہو تم
اب نہ بات تمھاری ہوگی


جانتے ہوں جو ذرہ ذرہ
اِک اِک رگ سے واقف ہوں جو
اب ان سے بھی ہوشیاری ہوگی؟

Advertisements