جو وہ روٹھ جائیں تو غم نہیں
کیں وفائیں ہم نے بھی کم نہیں


جو سمجھنا ہوتا سمجھتا وہ
میری بات اتنی مبھم نہیں


میرے چارہ گر کی نگاہ میں
مجھے کوئی لاحقِ غم نہیں


کیسی کیسی ٹوٹی ہیں قیامتیں
اُسے اِس بات کا بھی تو علم نہیں


میرے ہر گناہ کا حساب ہو

اور جو وہ کریں وہ ستم نہیں


جو گیا وہیں کا ہو گیا
کشش کوئے یار میں بھی کم نہیں

Advertisements