ریشم جیسی راہین تھین پر

پھر بھی سفر آسان نہ تھا

اک تو منزل دور بہت تھی

اور رکنے کو سامان نہ تھا

ویسے تو اپنے بھی نہ تھے

پران میں کوئی انجان نہ تھا

راھ میں آئے کئی سرائے

رھنے کو پر مھمان نہ تھا

دنیا میں تو لیکے آیا

پر میری پہچان نہ تھا

اس سے بھی میں واقف تھی

وہ بھی مجھسے انجان نہ تھا

وہ بھی اپنے سر لے لیا

جہ اس پے بہتان نہ تھا

شھر کو لوٹا سب نے مل کر

کون تھا جو بئیمان نہ تھا

 

Advertisements