دور ہو کے بھی پاس ہوتے ہو

حجر میں بھی وصال ہے کہ نہیں؟

اپنے دل سے بھی زرا پوچھ تو لو

میرے غم کا ملال ہے کہ نہیں؟

کیوں کریں اس سے پیار جو نہ کرے

یہ بھی بنتا سوال ہے کہ نہیں؟

جس کو دنیا سے کوئی غرض نہ ہو

اس کا بھی ایسا حال ہے کہ نہیں؟

اس کو پایا اور پا کے کھو بھی دیا

زندگی یہ ملال ہے کہ نہیں؟

خود کو جیسے سنبھالے رکھتا ہے

اس میں دل کا کمال ہے کہ نہیں؟

پاس آتی ہے دور جانے کو

زندگی یہ ملال ہے کہ نہیں؟

ایک کی دوسرے سے نہیں ملتی

زندگی بے مِثال ہے کہ نہیں؟

نہ ملے وہ تو مر ہی جائیں گے

اُس کا بھی یہ خیال ہے کہ نہیں؟

 

Advertisements