ہاں سُنو آساں نہیں ہوتا ہمیشہ

بات دل کی یوں کریں کے تم بھی سمجھو

چھوڑ دی ہے اب تو بس امید ساری

پرکہے جاتے ہیں تم سمجھو نہ سمجھو

جو بھی تھا کہنا وہ اب تو کہہ دیا ہے

اب کسے پرواہ ہے تم سمجھو نہ سمجھو۔

Advertisements